نئی دہلی،27؍دسمبر(ایس او نیوز؍پریس ریلیز) پاپولر فرنٹ آف انڈیا کے جنرل سکریٹری انیس احمد نے میڈیا کو جاری اپنے ایک بیان میں کہا کہ انفورسمنٹ ڈائرکٹریٹ (ای ڈی) تنظیم کے خلاف جھوٹا بیان دے کر عدالت کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
کیرالہ عدالت میں طالب علم لیڈر کے۔اے۔ روٗف شریف کی حراست بڑھانے کے لئے دی گئی درخواست میں، انفورسمنٹ ڈائرکٹریٹ نے پاپولر فرنٹ آف انڈیا کے بینک کھاتوں میں ۱۰۰کروڑ روپئے آنے کا الزام عائد کیا ہے۔یہ الزامات بالکل بے بنیاد ہیں اور اس کا مقصد عدالت اور میڈیا کو گمراہ کرنا ہے۔ ہمارے بینک کھاتوں میں پاپولر فرنٹ کو جو بھی فنڈ وصول ہوا ہے وہ عوام سے ملا چندہ ہے، جو کہ ایجنسیوں کے سامنے ہے اور پائی پائی کا حساب دیا جاتا ہے۔ حال ہی میں ہوئی ای ڈی کی کاروائی نے عوام کے غصے کو مشتعل کرنے کا کام کیا تھا جس سے یہ تاثر قائم ہوتا ہے کہ ہر اس فرد اور تنظیم کے پیچھے پڑنا ای ڈی کا عام معمول بن گیا ہے جنہیں سنگھ پریوار ناپسند کرتا ہے۔
ایجنسی پاپولر فرنٹ آف انڈیا کے خلاف اپنی سیاسی طور سے متاثر و فرضی تفتیش اور دھر پکڑ کو عدالت میں درست ٹھہرانے کی کوشش کر رہی ہے۔ لیکن اسی ای ڈی کو آر ایس ایس جیسی غیررجسٹر تنظیم کو ملنے والے فنڈ اور بی جے پی کے ذریعہ ایم ایل اے کی خریدوفروخت کے لئے خرچ کی جانے والی بے شمار رقم کے ذرائع آمد کو لے کر کوئی پرواہ نہیں ہوتی۔ درخواست کے مطابق ای ڈی کا رویہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ اسے ملک میں ہونے والے ہر ایک واقعے کا الزام پاپولر فرنٹ پر لادنے میں کوئی پریشانی نہیں ہوتی خواہ ان تمام کا ذمہ دار سنگھ پریوار ہی کیوں نہ ہو۔ ای ڈی بھارت میں ہو رہے یا آئندہ ہونے والے ہر ایک واقعے کو اسی ایک مقدمے کی تفتیش میں شامل کرتی جا رہی ہے جو سال 2018 میں پی ایف آئی کے خلاف درج ہوا تھا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ای ڈی سنگھ کی پشت پناہی والی بی جے پی حکومت کے حکم پر پہلے سے تیار ذہنیت کے ساتھ پاپولر فرنٹ کو نشانہ بنا رہی ہے۔ پاپولر فرنٹ اقتدار کے اس غلط استعمال کے خلاف تمام قانونی و جمہوری طریقوں کو اپنائے گی۔